مہک ہر شام اپنے شوہر کو خوش کرتی لیکن پھر بھی اس کا شوہر اچھا سلوک نہیں کرتا تھا

شادی تو بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی لیکن نصیبوں نے برباد کردیا تھا۔مہک کی شادی اپنے کزن طاہر سے ہوئی تھی شادی کے بعد کچھ مہینے تو سکون سے گزرے تھے ساس نند سب پوچھنے لگے 8 ماہ ہو گئے ہیں کوئی اللہ کی رحمت مہک کوئی جواب نہ دیتی وقت گزرنے لگا 5 سال گزر گئے لیکن مہک ماں نہ بن سکی پھوپھو ساس نند یہاں تک کے طاہر بھی طعنے دینے لگا پھوپھو تو بار بار کہتی یہ منحوس ہے بس اس سے جان چھڑوا لینی ہے بانجھ پن کا طعنہ وہ الفاظ کتنا درد دیتے ہیں یہ صرف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے ۔مہک ہر شام طنز سہتے ہوئے سوتی یر صبح سخت لہجے اس کے منتظر ہوتے بہت دعا مانگی اے میرے اللہ مجھے معاف فرما مجھ پہ رحم۔فرما میں اب تھک گئی ہوں باتیں سن سن کر ۔۔مجھے اپنی رحمت سے نواز دے ساس کبھی کسی حکیم کے پاس تو کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس لیکر جاتی مہک کو مہک کا ہر ٹیسٹ کلیئر ہوتا جب طاہر سے کہتے اپنا ٹیسٹ کروانے کو تو وہ انکار کر دیتا 7 سال گزر گئے تھے۔

لیکن اولاد نہ ہوئی پھر ایک دن مہک کھانا بنا رہی تھی طاہر گھر آیا ساتھ ایک لڑکی تھی ماں نے پوچھا طاہر بیٹا یہ کون ہے ۔طاہر مسکرا کر بولا اماں یہ تیری بہو ہے ہم نے کورٹ میرج کی ہے ۔ماں پہلے کچھ پریشان سی ہوئی پھر مہک کی طرف دیکھ کر بولی اس منحوس کا کیا کرنا ہے ۔طاہر مہک کی طرف دیکھ کر 3 بار طلاق کا کہا پھر دوسری بیوی کا ہاتھ تھام کر کمرے میں چلا گیا ساس نند سب بہت خوش تھے مہک کی تو دنیا آخر گئی تھی لیکن اب کیا کر سکتی تھی وہ زندگی بھر رونے کے سوا وہ انجام جانتی تھئ جب عورت کو طلاق ہو جائے تو یہ معاشرہ اس کے ساتھ کیا کرتا ہے ۔طلاق والی لڑکی کو صرف گوشت کا ٹکڑا سمجھا جاتا یے۔ 10 سال پہلے وہ کب جانتی تھی یوں آنے والا وقت اس پہ قہر برسائے گا وہ کب جانتی تھی اس کے دامن پہ طلاق کا دھبہ لگ جائے گا ۔ساس گالی دے کر بولی منحوس نکل جا اب ہمارے گھر سے ۔بنا کچھ کہے لبوں کو سی لیا کیا شکوہ کرتی اب کیا شکایت کرتی جب زخم ہی اپنوں نے دیئے تھے کمرے میں گئی اہنا موبائل لیا الماری میں کپڑے پڑے ہوئے تھے۔

کچھ ضرورت کا سامان تھا طاہر کہتا تھا نئی موٹر بائیک لینی یے مہک نے پیسے جمع کرتے کرتے 5 سال میں 70 ہزار روپے جمع کر لیئے تھے اپنے خرچ میں سے جاتے ہوئے طاہر کی طرف مسکرا کر دیکھنے لگی پاگل ہوں تو کسی کو دکھ نہیں نہ دیتے میں بدعا نہیں دوں گی بس میرے نصیبوں کا سفر ہی ایسا ہے خوش رہو تم دونوں اور ہاں یہ لو 70 ہزار روپے کہتے تھے نا بائیک لینی یے ۔میری طرف سے تم کو شادی کا گفٹ ہے۔طاہر مہک کی آنکھوں میں دیکھنے لگا غم کا ایک بھی آنسو نہ تھا نہ جانے کیسے اتنا صبر کیئے ہوئے تھی یوں لگ رہا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔مہک نے پھوپھو کے سامنے سر جھکایا پھوپھو جان چلو مانا میں منحوس ہی سہی لیکن آپ میری پھوپھو بھی تو ہیں نا مجھے پیار تو دے دیں الوداع کرتے ہوئے پھوپھو نے منہ موڑ لیا مسکرانے لگی ہائے کیسے اتنی نفرت کر لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *