بنی اسرائیل میں ایک عورت کپڑے اتار کر برہنہ

بنی اسرائیل میں ایک عبادت گزار شخص تھا جو لوگوں سے الگ رہ کر عبادت کیا کرتا تھا۔ وہ ایک طویل مدت تک اپنی عبادت گاہ میں عبادت کرتا رہا۔ بادشاہ صبح شام اس کے پاس حاضر ہوتا اور اس سے حاجت وغیرہ پوچھتا تو وہ جواب میں کہتا کہ اللہ عزوجل میری حاجت کو زیادہ جانتا ہے۔ اللہ عزوجل نے اس کی عبادت گاہ پر انگور کی ایک بیل اُگا دی جس پر روزانہ انگور لگتے۔ جب اس عابد کو پیاس لگتی تو وہ اپنا ہاتھ بڑھاتا تو اس سے پانی بہہ نکلتا وہ اسے پی لیا کرتا۔کچھ عرصے کے بعد مغرب کے وقت ایک حسین و جمیل عورت اس عابد کے قریب سے گزری تو اسے پکارنے لگی اے اللہ عزوجل کے بندےعابد نے جواب میں لبیک کہاتوعورت نے پوچھا کیا تجھے تیرا رب دیکھ رہا ہے۔عابد نے کہا:یعنی میرا رب اللہ عزوجل ہے وہ قہار ہے یکتا ہے حی و قیوم ہے دلوں کے بھید جانتا ہے اور قبروں میں مدفون لوگوں کو اٹھانے والا ہے۔ عورت نے کہاشہر مجھ سے دور ہے یعنی مجھے پناہ دے دو۔ عابد نے کہااوپر آجاؤ۔ جب وہ عورت عبادت گاہ میں داخل ہوئی تو اپنے کپڑے اتار کر برہ نہ ہوگئی اور عابد کو دعوت نظارہ پیش کرنے لگی۔اس عابد نے اپنی نگاہیں جھکالیں اور عورت سے کہا تو برباد ہو اپنا جسم ڈھانپ لے۔ عورت بولی اگر آج رات تو مجھ سے نفع اٹھالے گا تو تیرا کیا جائے گا۔

تو اس عابد نے اپنے نفس سے پوچھا تو کیا کہتا ہے؟ نفس بولا خدا عزوجل کی قسم! میں تو اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھاؤں گا۔ عابد اپنے نفس سے بولاتیری ہلاکت ہو، تُو گندھک کا لباس اور آگ کے انگارے چاہتا ہے اور میری اتنے عرصے کی عبادت ضائع کرنا چاہتا ہے، کیا تو نہیں جانتا زانی کی بخشش نہ ہوگی اور اسے منہ کے بل جہنم میں دھکیل دیا جائے گا، جہنم کی آگ کبھی نہ بجھے گی اور نہ ہی فنا ہوگی مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ عزوجل تجھ پر ایسا غضب فرمائے گا کہ پھر کبھی تجھ سے راضی نہ ہو گا۔ جب اس کے نفس نے اسے مزید ورغلایا تو وہ عابد بولا میں تجھے دنیا کی ہلکی آگ پر پیش کرتا ہوں اگر تو نے اسے برداشت کرلیا تو تجھے آج رات اس عورت سے نفع اٹھانے دوں گا۔ پھر اس نے چراغ میں تیل بھرا اور اس کی بتی کو بڑا کر دیا۔ وہ عورت بھی یہ سب باتیں سن رہی تھی اور عابد کا عمل دیکھ رہی تھی۔ پھر اس عابد نے اپنا ہاتھ بتی پر رکھا تو اس نے ہاتھ نہ جلایا تو وہ بتی سے بولا کیا ہوا جلاتی کیوں نہیں؟ تو آگ نے اس کا انگوٹھا جلا دیا پھر اس کی انگلیاں اور پھر اس کا ہاتھ جلا ڈالا۔

اس پر عورت نے ایک زوردار چیخ ماری اور دنیا سے رخصت ہوگئی۔اس عابد نے اسے اسی کے کپڑوں سے ڈھانپ دیا۔ جب صبح ہوئی تو ابلیس ملعون نے چیخ کر لوگو ں سے کہا: اے لوگو! عابد نے فلاں شخص کی فلاں بیٹی سے زن ا کر کے اسے قتل کر دیا ہے۔ تو بادشاہ اپنے لشکر اور رعایا کے ساتھ سوار ہو کر آیا۔ جب وہ اس عبادت خانے کے قریب پہنچا تو چلا کر عابد کو پکارا۔عابد نے پکار کا جواب دیا تو بادشاہ نے پوچھا کہ فلاں کی بیٹی کہاں ہے۔عابد نے کہا:وہ میرے پاس ہی ہے۔ با دشاہ بولا: اسے میرے پاس بھیجو۔ عابد بولا: وہ تو مرچکی ہے۔ بادشاہ بولا: جب وہ زن ا پر راضی نہ ہوئی تو تُو نے اسے قتل کردیا؟ پھر اس عورت کو وہاں سے اٹھا لیا گیا اور عابد کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ وہ لوگ زان ی کو آرے سے کاٹ دیا کرتے تھے۔ اس عابد کا ہاتھ آستین میں چھپا ہو اتھا وہ انہیں اپنا قصہ نہیں بتا رہا تھا۔پھر اس کے سر پر آرار کھ دیا گیا اور جلادوں سے کہا گیا کہ آرا چلاؤ تو انہوں نے آرا چلا دیا۔ جب آرا اس کے دماغ تک پہنچا تو اس کے منہ سے آہ نکلی تو اللہ عزوجل نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا: اس سے کہو کہ یہ کچھ نہ بولے، میں اسے دیکھ رہا ہوں میرا عرش اٹھانے والے اور آسمانوں کے مکین فرشتے رو رہے ہیں، مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! اگر اس نے دوسری مرتبہ آہ نکالی تو میں آسمانوں کو زمین پر گرادوں گا۔

تو اس نے مرتے دم تک نہ ہی کوئی آہ نکالی اور نہ ہی کوئی اور بات کی جب اس کا انتقال ہوگیا تو اللہ عزوجل نے عورت کی روح واپس لوٹا دی تو وہ بولی: خدا عزوجل کی قسم! یہ مظلوم تھا اس نے زن ا نہیں کیا تھا میں ابھی تک کنواری ہی ہوں۔ پھر اس نے لوگوں کو پورا واقعہ سنا دیا تو انہوں نے عابد کا ہاتھ دیکھا تو وہ عورت کے بیان کے مطابق جلا ہوا تھا۔وہ لوگ بولے: اگر ہمیں معلوم ہوتا تو ہم ہر گز اسے نہ چیرتے۔ جب وہ عا بد دو ٹکڑے ہوکر زمین پر گر گیا تو وہ عورت بھی اپنی سابقہ حالت میں لوٹ گئی۔ لوگوں نے ان دونوں کے لئے قبر کھودی تو قبر میں مشک عنبر اور کافور کی خوشبو پائی۔ جب وہ جنازہ ادا کرنے کے لئے ان کے پاس پہنچے تو آسمان سے ایک منادی نے انہیں ندا دی۔

ٹھہرجاؤ پہلے ملائکہ کو جنازہ پڑھنے دو۔ پھر ان لوگوں نے ان کا جنازہ پڑھا اور انہیں دفن کردیا تو اللہ عزوجل نے ان کی قبر پر یاسمین کا پودا اُگا دیا اور انہوں نے ان کی قبر پر ایک تختہ پڑا ہوا دیکھا اس پر لکھا تھا کہ اللہ عزوجل کے نام سے شروع جو نہایت مہربان اور رحم والا، اللہ عزوجل کی طرف سے اپنے بندے اور ولی کے لئے میں نے اپنے عرش کے نیچے ایک منبر نصب کیا اور اپنے ملائکہ کو جمع کیا، جبرائیل علیہ السلام نے خطبہ دیا اور میں نے اپنے فرشتوں کو گواہ بنایا کہ میں نے فردوس کی پچاس ہزار حوریں تیرے نکاح میں دیں اور میں اپنے فرمانبردار اور ڈرنے والے بندو ں سے ایسے ہی پیش آتا ہوں۔اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو ا ور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین بجاہ النبی الامین سرکارِ مدینہ قرارِقلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ ﷺ نے فرمایا عورت کے محاسن کی طرف نظر کرنا اِبلیس کے زہر میں بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے اور جو شخص حرام چیزوں سے اپنی آنکھوں کی حفاظت نہیں کرتا قیامت کے دن اس کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیری جائے گی۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور ﷺ کا ارشادِ پاک ہے عورت کے محاسن کی طرف نظر کرنا ابلیس کے زہر میں بجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ جو شخص اپنی آنکھوں کی حفاظت کریگا اللہ عزوجل اسے ایسی عبادت کی تو فیق عطا فرمائے گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *