ایک صاحب اور ان کی بیوی پر ایک مولوی نے سخت جادو کیا

ایک صاحب اور ان کی بیوی پر کسی جا دو گر نے انتہائی سخت جا دو کا وار کیا یہ جادو گر اس جادو پر با قا عدہ پہرہ بھی دیا کر تا اور کسی عامل کو اس کا توڑ نہ کر نے دیتا۔ وہ صاحب فر ما تے ہیں کہ ان کی بیوی کے ہاں اول تو حمل ہی نہ ٹھہر تا اور اگر ٹھہر بھی جا تا تو سا قط ہو جا تا اگر کسی طریقہ نو ماہ پورے ہوتے تو بچے کی پیدائش مردہ حالت میں ہوتی۔ یہ صاحب انتہائی با کردار اور پانچ وقت کے نمازی تھے اور بچوں کو مسجد میں قرآن بھی پڑ ھا یا کر تے تھے بہت علاج کروائے بڑے سے بڑا عامل بلو ا یا اور علاج کر وا یا اور ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا مگر نتیجہ صفر نکلتا۔ ایک دن ایک انتہائی درویش باعمل عالم اور عامل کے پاس جا نا ہوا۔ یہ صاحب اپنے استخارہ کے لیے مشہور تھے۔

اور ان کا استخارہ ایک منٹ کا ہوا کرتا تھا ایک منٹ میں سا را کچا چٹھا کھول کے رکھ دیتے۔ اللہ نے بہت عطا کیا تھا ا ن کو اب یہ پریشانی لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے مو لوی صاحب نے بتا یا کہ یہ کسی عام زور آور جادوگر کا وار نہیں بلکہ یہ تو کسی خبیث العین ( جادو کی دنیا کا انتہائی غلیظ اور ماہر جادوگر) کا وار ہے اور یہ میرے بس سے باہر ہے میں اس عمر میں اتنی سخت محنت نہیں کر سکتا اس کا توڑ بھی کوئی خبیث العین ہی کر سکتا ہے یہ چو نکہ مجبور تھے اس لیے پوچھنے لگے کہ کچھ تو حل ہوگا۔ مولوی صاحب فر ما نے لگے کہ سندھ کے فلاں علاقے فلاں جگہ پر ایک گاؤں کے باہر اسی خبیث العین نے ان دنوں ڈیرہ لگا یا ہے تو فوراً اس کے پاس چلا جا یہ صاحب فوراً ا سندھ روانہ ہو گئے۔ اور جیسے ہی اس گاؤں کے باہر پہنچے تو دور سے ایک آگ کا دہکتا الاؤ لگا ہوا دکھائی دیا۔

انہوں نے بزرگوں کی بتائی ہوئی نشانی دیکھ کر اس کی طرف بڑھنا شروع کیا دور سے دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی آگ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ اور اردگر اس کے ماننے والوں کا جمکٹھا ہے ابھی ایک ایکڑ دور تھے کہ وہ شخص اچھل کر کھڑا ہو گیا اور زور زور سے چلانے لگا کہ وہ دیکھو آ گیا جادو کا ڈسا ۔۔۔ وہ آ گیا قرآن پڑھانے والا۔ یہ اس کے پاس پہنچے اور اپنا مقصد بتا یا اب خبیث العین خوشی سے پاگلوں کی طرح نا چنے لگا اور بو لا جاؤ فلاں کے پاس جاؤ فلاں کے پاس یہ گرہ جو لگی ہے کھلو اؤ اپنے مولویوں سے۔۔۔غرض اس نے مولوی صاحبان کے ساتھ ساتھ ان صاحب کو بھی برا بھلا کہا اور بڑے بڑے خدائی کے دعوے بھی کیے اور جادو توڑنے سے انکار کر دیا۔

یہ صاحب واپس آ ئے اور اپنے رب کو پکارا کہ یا اللہ یہ بھی مخلوق ہے تو چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا یہ ظلام مجھ پر غالب آ گئے ہیں اور ظلم کرنے سے باز نہیں آ رہے اور رو رو کے اللہ کے حضور التجا ئیں کیں۔ تو تجھے میں کبھی معاف نہ کر تا بہر حال یہ جادوگر معافی مانگ کر اپنی جان بچا کر واپس سندھ لوٹ گیا کیونکہ اگر وہ معافی نہ مانگتا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ مگر جادو گر کی صلح کا اعتبار بھی نہ کیا اور اکتا لیس دن مسلسل عمل کر تے رہے اس کے بعد اللہ کے ان کو نر ینہ صحت مند اولاد سے نوازا اور دو سے زائد بیٹے عطا فر ما ئے اور بندش ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی جا دو کا حتمی علاج قرآن پاک کی آخری دو سورتیں جنہیں معوذتین کہا جا تا ہے سحر کے علاج میں مغز کی حیثیت رکھتی ہے یعنی سورۃ فلق اور سورۃ الناس۔ انہیں گیارہ گیارہ مرتبہ صبح و شام پڑھنا چاہیے اور بچوں پر پڑھ کر دم کر نا چاہیے یہ بے نظیر و بے مثال عمل ہے انہیں آیات کے پڑھنے سے حضور اکرم ﷺ کو سحر سے شفاء ملی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *