اگر نوکری کی نوعیت ایسی ہو کہ روزہ رکھنا دشور ہو تو ۔۔؟

اگر نوکری کی نوعیت ایسی ہو کہ روزہ رکھنا دشوار ہو تو کیا کرنا چاہئے ؟ ایسے شخص کو ہر وہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے جس سے اس کا روزہ بچ جائے ، مثلا اگر وہ چھٹی لے سکتا ہے تو چھٹی لے ، یا تنخواہ کے بغیر اس کا گزارہ ہو سکتا ہے اور کسی پریشانی کا شکار نہیں ہو گا تو کام نہ کرے اور روزہ رکھے یا اتنا مال موجود ہو جس سے اس کا گزارہ ہو جائے یا اگر قرضہ لے کر گزارہ کر سکتا ہو تو قرضہ لے اور روزہ رکھ کر گھر بیٹھے۔اگر یہ سب ممکن نہ ہو تو روزہ میں جب صورتِ حال نا قابل برداشت تو فقط اتنا کھانا یا پانی پی سکتا ہے کہ وہ ناقابل برداشت کیفیت ختم ہوجائے اور پھر پورے دن منافی روزہ کاموں سے پرہیز بھی کرے اور بعد رمضان اس کی قضا بھی انجام دے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عمرو ایک صحت مند آدمی ہے وہ رمضانُ المبارک کے روزے نہیں رکھتا اور کہتا ہے کہ میرا عذر ہے اور عذر یہ ہے

کہ میں روزہ رکھ کر مزدوری نہیں کر سکتا،وہ شخص سرِعام کھاتا پیتا ہے اُسے منع کیا جائے تو کہتا ہے کہ میں جانوں اور میرا رب جانےبخشنا تو اللہ نے ہے۔شریعت میں ایسے بندے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اگر صورتِ حال واقعی ہے تو عمرو فاسق و فاجر اور مرتکبِ حرام ہے کیونکہ روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے بلاوجہِ شرعی اس کو ترک کرنا ناجائز وگناہ ہے ،اور یہ کوئی عذر نہیں کہ میں نے روزی کمانی ہوتی ہے بلکہ حکم یہ ہے کہ روزہ رکھ کر کام کیا جائے اوراگر کام کی وجہ سے روزہ رکھنے میں دشواری آتی ہے تو کام کی مقدار کم کرلینی چاہئے نہ کہ روزہ چھوڑدیا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے ۔ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: میں سو رہا تھا اچانک میرے پا س دو شخص آئے، انہوں نے مجھے میرے بازو سے تھاما اور ایک دشوار گزار پہاڑ کے پاس لے آئے اور بولے: اوپر تشریف لے چلیں ۔

میں نے کہا:میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔وہ بولے: ہم اسے آپ کے لئے آسان کر دیں گے۔ لہٰذا میں اوپر چڑھنے لگا یہاں تک کہ جب میں پہاڑکے برابرہوا تو بہت ہولناک آوازیں آنے لگیں ، میں نے پوچھا:یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ انہوں نےجواب دیا :یہ جہنمیوں کے چیخنے کی آوازیں ہیں ۔ پھر وہ مجھے لے کر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اپنی کونچوں کے ساتھ لٹکے ہوئے تھے، ان کے جبڑوں کو چیرا ہواتھا اور ان سے خون بہہ رہا تھا، میں نے پوچھا:یہ لوگ کون ہیں ؟ جواب ملا :یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ افطارکرنے کاجائز وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے۔ امامِ اہلسنّت امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :چوں پیش از وقتِ افطار را ایں عذاب ست اصلاًروزہ نہ داشتن را خود قیاس کن کہ چنداں باشد وَالْعِیَاذُ بِاﷲ یعنی جب قبل از وقت روزہ افطار کرنے پر یہ عذاب ہے توخود سوچئے بالکل روزہ نہ رکھنے پر کتنا عذاب ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *