اس وقت کوئی دعا رد نہیں ہوتی رمضان میں دعا کے لئے بہترین وقت

ہمیں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کون کون سے اسباب و وسائل ہیں جن کو اختیار کرنے سے دعا کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ کتاب وسنت میں ان اسباب کی نشاندہی کردی گئی ہے ۔ ذیل میں چند اسباب وذرائع اختصار سے بیان کیے جارہے ہیں کوئی شخص جس قدر حلال وطیب غذا اپنے جسم میں اتارے گا اسی قدر زیادہ مستجاب الدعوات ہوگاجبکہ حرام خور شخص طویل سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد بیت اللہ شریف میں پہنچ کر دونوں ہاتھ بلند کرکے بلند آواز سے رب تعالیٰ کو پکارے تو بھی اس کی غذا اور لباس حرام ذرائع سے حاصل ہونے کے باعث اس کی دعا قبول نہیں کی جاتی۔ معجم طبرانی اوسط میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن ابی وقاص ؓنے نبی کریم سے عرض کیا: اللہ کے رسول ! میں مستجاب الدعوات کیسے بن سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا:اپنا کھانا پینا مشتبہات سے پاک رکھو تو مستجاب الدعوات بن جاؤگے۔ مؤذن جب اذان کہتا ہے تو ایسے وقت میں کی جانے والے دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ پیارے نبی کریم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے توآسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دعائیں قبول کی جاتی ہیں

۔ایک بندہ مؤمن اگر نماز کے اوقات میںاذان اوراقامت کے درمیان دعا کرے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اس کی دعا قبول کرلی جائے۔اس لئے کہ نبی کریم کا فرمان عالی شان ہے :اذان اوراقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا نامنظور نہیں ہوتی۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اس وقت میں کیا مانگا کریں؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دنیا اور آخرت کی عافیت کا سوال کیا کرو۔ ہر رات کے آخری حصہ میں اجابت دعا کے خصوصی لمحات ہوتے ہیں۔ اس وقت میں دعا واستغفار کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں کئی جگہ تعریف وتوصیف فرمائی ہے: ارشادباری تعالیٰ ہے: اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے۔ نیز ارشاد ربانی ہے: (اﷲ کے وہ بندے) رات کو بہت کم سویاکرتے تھے اورسحر کے وقت وہ (توبہ و)استغفار کیا کرتے تھے۔ یہ بات معلوم ہے کہ استغفار بھی دعا ہی کی ایک قسم ہے۔ کتب حدیث میں نبی کریم کا ارشاد گرامی ہے: ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اوریہ اعلان کرتا ہے: ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا میں اس کی دعائیں قبول کروں۔ ہے کوئی مجھ سے سوال کرنے والا میں اس کو عطا کروں۔

ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا میں اس کی مغفرت کردوں۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:رات کے آخری حصے میں آدمی اپنے رب کے بہت قریب ہوتا ہے، اگر تم ان گھڑیوں میں اللہ کا ذکر کرسکو تو ضرورکیا کرو۔سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ زوال آفتاب کے بعد نماز ظہر سے پہلے 4 رکعت نماز ادا کرتے اورفرماتے:یہ ایک ایسی گھڑی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اورمیں یہ پسند کرتا ہوں کہ ان لمحات میں میرے نیک اعمال اوپر جائیں۔دعا کی قبولیت کے سلسلہ میں جمعہ کے دن کی ایک خاص اہمیت ہے۔صحیحین میں سید الاولین والآخرین نے جمعہ کے دن کا ذکر کیااور فرمایا: اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ مسلمان بندہ اسے اس حا ل میں پالے کہ وہ قیام میں کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز طلب کررہا ہو تو وہ چیز اسے عطا کردی جاتی ہے( آپ نے انگلی کے اشارے سے بتلایا کہ) وہ تھوڑا سا وقت ہوتا ہے۔ فضیلت والے اوقات میں سے عرفہ کے دن کی ایک خاص اہمیت ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں کہ جس میں عرفہ کے دن سے بڑھ کراللہ تعالیٰ بندوں کو جہنم سے زیادہ رہائی دیتا ہو۔ اللہ تعالیٰ حجاج کے نزدیک ہو جاتا ہے پھر ان کا ذکر فرشتوں کے سامنے فخریہ انداز سے فرماتا ہے اور پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں جمعہ کے دن کی اور عرفہ کے دن کی قسم اٹھائی ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *